Read more

 

کنگھی کرتے ہوئے اگر روزانہ چند بال ہاتھ میں آ جائیں تو شاید ہم اس پر زیادہ توجہ نہ دیں۔ 

لیکن جب کنگھی میں پہلے سے زیادہ بال نظر آنے لگیں، نہاتے وقت بال ہاتھوں میں رہ جائیں 

یا آئینے میں سر کی جلد پہلے کی نسبت نمایاں محسوس ہونے لگے تو دل میں 

ایک سوال ضرور اٹھتا ہے کہ آخر بال کیوں جھڑتے ہیں

یہ سوال صرف خوبصورتی سے متعلق نہیں۔ بالوں کا اچانک زیادہ جھڑنا کبھی ہماری خوراک،

 کبھی روزمرہ عادات، کبھی ذہنی دباؤ اور کبھی جسم کے اندر ہونے والی کسی تبدیلی کی طرف اشارہ کر سکتا ہے

اسی لیے بال جھڑنے کی صورت میں فوراً کسی ایک تیل، نسخے یا مصنوعات کو

 ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پہلے یہ سمجھنا زیادہ ضروری ہے کہ اس کے پیچھے وجہ کیا ہو سکتی ہے

بالوں کا کچھ مقدار میں گرنا معمول ہے

سر کے تمام بال ایک ہی وقت میں نہیں بڑھتے۔ کچھ بال بڑھنے کے مرحلے میں ہوتے ہیں، 

کچھ آرام کے مرحلے میں اور کچھ اپنی قدرتی عمر پوری کرکے جھڑ جاتے ہیں

اس لیے چند بالوں کا روزانہ گرنا لازماً کسی بیماری کی علامت نہیں ہوتا

تشویش اس وقت زیادہ اہم ہو جاتی ہے جب بال پہلے کے مقابلے میں واضح طور پر زیادہ جھڑنے لگیں، 

بالوں کی کثافت کم ہونے لگے، سر کی جلد زیادہ نمایاں دکھائی دینے لگے 

یا بالوں کے جھڑنے کے ساتھ دوسری علامات بھی ظاہر ہوں

یعنی صرف گرے ہوئے بالوں کی تعداد دیکھنے کے بجائے یہ دیکھنا زیادہ اہم ہے کہ آپ کے معمول میں کیا تبدیلی آئی ہے

غذائیت کی کمی بالوں پر اثر ڈال سکتی ہے

بال بھی اسی جسم کا حصہ ہیں جسے ہم خوراک فراہم کرتے ہیں۔ اگر جسم کو مناسب غذائیت نہ ملے 

تو اس کا اثر بالوں کی صحت پر بھی پڑ سکتا ہے

بعض افراد میں آئرن یا پروٹین جیسے ضروری غذائی اجزا کی کمی بالوں کے زیادہ جھڑنے سے وابستہ ہو سکتی ہے

اسی لیے بالوں کی حفاظت صرف باہر سے لگائی جانے والی چیزوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔

 روزمرہ خوراک بھی اہم کردار ادا کرتی ہے

دالیں، انڈے، گوشت، سبزیاں، پھل اور دوسری غذائیت سے بھرپور غذائیں متوازن خوراک کا حصہ بن سکتی ہیں

اگر کسی غذائی کمی کا شبہ ہو تو خود سے غذائی گولیاں یا دوسری چیزیں شروع کرنے کے بجائے 

طبی ماہر سے مشورہ کرنا زیادہ مناسب ہے

ذہنی دباؤ بھی اپنا اثر دکھا سکتا ہے

ہم اکثر ذہنی دباؤ کو صرف پریشانی، بے چینی یا نیند کی خرابی کی صورت میں محسوس کرتے ہیں، 

لیکن جسم بھی اس دباؤ کا اثر قبول کرتا ہے

شدید ذہنی یا جسمانی دباؤ کے بعد بعض افراد میں کچھ عرصے کے لیے بال زیادہ جھڑ سکتے ہیں

خاص بات یہ ہے کہ بالوں کا زیادہ جھڑنا ہمیشہ دباؤ کے فوراً بعد شروع نہیں ہوتا۔ 

بعض اوقات اس کا اثر کچھ عرصے بعد نمایاں ہوتا ہے، جس کی وجہ سے 

انسان کو دونوں چیزوں کے درمیان تعلق سمجھ نہیں آتا

اس لیے اگر کسی مشکل یا دباؤ بھرے عرصے کے بعد بال زیادہ جھڑنے لگیں تو

 صرف بالوں کی مصنوعات تبدیل کرنے کے بجائے اپنی نیند، آرام اور مجموعی معمول پر بھی نظر ڈالنی چاہیے

جسم میں ہارمونی تبدیلیاں

جسم میں ہارمونز کی تبدیلیاں بھی بالوں کے بڑھنے اور جھڑنے کے معمول کو متاثر کر سکتی ہیں

خواتین میں حمل، بچے کی پیدائش کے بعد کا عرصہ اور سنِ یاس کے دوران ایسی تبدیلیاں دیکھی جا سکتی ہیں

اسی طرح تھائیرائڈ سے متعلق بعض مسائل بھی بالوں کے جھڑنے سے وابستہ ہو سکتے ہیں

لیکن ہر بالوں کا جھڑنا ہارمونز کی خرابی نہیں ہوتا۔ صرف اندازے سے

 کسی نتیجے پر پہنچنے کے بجائے علامات اور مکمل صورت حال کو دیکھنا ضروری ہے

بالوں کے ساتھ ہماری اپنی عادات بھی اہم ہیں

کبھی ہم بالوں کو خوبصورت بنانے کی کوشش میں انہیں نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں اور ہمیں اس کا احساس بھی نہیں ہوتا

بار بار بالوں کو رنگ کرنا، کیمیائی طریقوں سے سیدھا کرنا، بہت زیادہ حرارت دینا،

 بالوں کو مسلسل سختی سے باندھنا یا گیلے بالوں کو زور سے کھینچنا بالوں کو کمزور اور ٹوٹنے والا بنا سکتا ہے

یہاں ایک فرق سمجھنا ضروری ہے۔ بال جڑ سے جھڑنا اور بال کا درمیان سے ٹوٹنا ایک جیسی بات نہیں

اس لیے اگر بالوں کی لمبائی میں بہت سے چھوٹے ٹوٹے ہوئے بال نظر آ رہے ہوں تو ممکن ہے 

مسئلہ صرف جڑ سے بال جھڑنے کا نہ ہو بلکہ بالوں کی ساخت کو پہنچنے والے نقصان کا بھی ہو

کبھی بہتر نگہداشت کا مطلب کوئی نئی چیز شامل کرنا نہیں بلکہ نقصان پہنچانے والی عادت ختم کرنا ہوتا ہے

موروثی وجہ کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے

کچھ لوگوں میں بالوں کا پتلا ہونا موروثی ہوتا ہے

اگر خاندان میں والدین یا قریبی رشتہ داروں کے بال عمر کے ساتھ پتلے ہوتے رہے ہوں 

تو موروثی عوامل بھی اس مسئلے میں کردار ادا کر سکتے ہیں

ایسی صورت میں ہر گھریلو نسخے سے فوری نتیجے کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں

اگر بال مسلسل پتلے ہو رہے ہوں تو ماہرِ جلد سے مشورہ کرنا زیادہ مفید ہے تاکہ معلوم ہو سکے

 کہ بالوں کے جھڑنے کی نوعیت کیا ہے اور کون سا طریقہ مناسب ہو سکتا ہے

بعض بیماریاں اور ادویات بھی وجہ بن سکتی ہیں

کبھی بالوں کا جھڑنا خود بالوں کا بنیادی مسئلہ نہیں ہوتا بلکہ جسم میں ہونے والی کسی تبدیلی کا نتیجہ ہوتا ہے

شدید بخار، بعض بیماریوں، جسمانی دباؤ اور کچھ ادویات کے استعمال کے بعد

 بعض افراد میں عارضی طور پر بال زیادہ جھڑ سکتے ہیں

اگر آپ نے محسوس کیا ہے کہ کسی بیماری یا علاج کے بعد بال معمول سے زیادہ گرنے لگے ہیں 

تو اسے صرف بالوں کی کمزوری سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے

ایسی صورت میں اصل وجہ جاننا زیادہ اہم ہے

بالوں کی غلط نگہداشت بھی مسئلہ بڑھا سکتی ہے

بالوں کو زور سے کنگھی کرنا، گیلے بالوں کو کھینچنا، بہت زیادہ کس کر باندھنا 

اور بالوں کے ساتھ مسلسل سختی کرنا انہیں نقصان پہنچا سکتا ہے

بالوں کی بہتر نگہداشت کا مطلب لازماً مہنگی مصنوعات استعمال کرنا نہیں

کبھی اچھی نگہداشت بہت سادہ ہوتی ہے۔ بالوں کو نرمی سے سنبھالنا، مناسب صفائی رکھنا، 

غیرضروری حرارت سے بچنا اور بالوں کو مسلسل کھنچاؤ سے محفوظ رکھنا بھی بہت اہم ہے

بالوں کو صحت مند رکھنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے

اپنی روزمرہ خوراک کو متوازن رکھنے کی کوشش کریں

بالوں کو غیرضروری کیمیائی عمل اور بہت زیادہ حرارت سے بچائیں

گیلے بالوں کو زور سے نہ رگڑیں اور نہ کھینچیں

بالوں کو مسلسل بہت زیادہ کس کر نہ باندھیں

مناسب نیند اور آرام کو معمول کا حصہ بنائیں

مسلسل ذہنی دباؤ کو نظر انداز نہ کریں

بالوں میں اچانک یا غیرمعمولی تبدیلی آئے تو اس کی وجہ سمجھنے کی کوشش کریں

اور اگر بال معمول سے بہت زیادہ جھڑ رہے ہوں تو صرف گھریلو طریقوں پر 

انحصار کرنے کے بجائے ماہرِ جلد سے مشورہ کریں

ہر شخص کے لیے ایک ہی حل کیوں نہیں ہوتا

بالوں کے جھڑنے کے بارے میں سب سے عام غلط فہمی یہ ہے 

کہ جو چیز ایک شخص کے لیے مفید رہی، وہ ہر شخص کے لیے بھی کام کرے گی

ایسا ضروری نہیں

کسی شخص کے بال غذائی کمی کی وجہ سے جھڑ سکتے ہیں، 

کسی میں ذہنی یا جسمانی دباؤ کا اثر ہو سکتا ہے، کسی میں موروثی وجہ ہو سکتی ہے

 اور کسی دوسرے شخص میں ہارمونی تبدیلی یا کوئی طبی مسئلہ موجود ہو سکتا ہے

اسی لیے بالوں کے جھڑنے کا حل تلاش کرنے سے پہلے اس کی وجہ سمجھنا زیادہ اہم ہے

ایک ہی نسخہ سب کے لیے استعمال کرنا آسان ضرور ہے، لیکن ہمیشہ درست نہیں

کب ماہرِ جلد سے مشورہ کرنا چاہیے

اگر بال اچانک بہت زیادہ جھڑنے لگیں، سر کی جلد پر واضح خالی جگہیں بننے لگیں،

 بالوں کے جھڑنے کے ساتھ خارش یا سوزش ہو، بال مسلسل پتلے ہوتے جائیں 

یا مسئلہ طویل عرصے تک برقرار رہے تو ماہرِ جلد سے مشورہ کرنا بہتر ہے

خصوصاً اس وقت جب بالوں کے جھڑنے کے ساتھ جسم میں دوسری غیرمعمولی تبدیلیاں بھی محسوس ہوں

اصل وجہ معلوم ہونے سے مناسب قدم اٹھانا آسان ہو جاتا ہے

آخر میں

بالوں کا جھڑنا ایسی چیز ہے جسے نہ تو ہر حال میں بیماری سمجھنا چاہیے 

اور نہ ہی ہر صورت میں معمول کہہ کر نظر انداز کر دینا چاہیے

کنگھی میں چند بال دیکھ کر گھبرا جانے کے بجائے اپنے معمول کو دیکھیں

آپ کیا کھا رہے ہیں

آپ کتنی نیند لے رہے ہیں

کیا آپ مسلسل ذہنی دباؤ میں ہیں

کیا حال ہی میں کوئی بیماری یا جسمانی تبدیلی ہوئی ہے

کیا آپ بالوں کو بہت زیادہ حرارت، کیمیائی عمل یا کھنچاؤ کا سامنا کروا رہے ہیں

ان سوالات کے جواب مسئلے کو سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں

بالوں کی اچھی نگہداشت کسی ایک دن میں حاصل نہیں ہوتی۔ یہ خوراک، صحت، 

روزمرہ عادات اور مناسب دیکھ بھال کے درمیان توازن کا نام ہے

اور جب بالوں کا جھڑنا اس معمول سے آگے بڑھ جائے تو اندازوں کے بجائے 

اصل وجہ معلوم کرنا ہی زیادہ سمجھ داری ہے

visit us on FAcebook.